مظفرگڑھ کی ڈسٹرکٹ کورٹس میں ہونے والی مبینہ طور پر خلاف ضابطہ بھرتیوں کیخلاف امیدواروں اور وکلاء کی جانب سے مظفرگڑہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا،مظاہرہن نے بھرتیوں میں شفافیت کو نظرانداز کیے جانے کے الزامات عائد کیے تفصیل کے مطابق مظفرگڑھ کی ڈسٹرکٹ کورٹس میں ہونے والی مبینہ خلاف ضابطہ بھرتیوں کیخلاف پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا،مظاہرے میں امیدواروں اور وکلاء نے کثیر تعداد میں شرکت کی ،مظاہرین نے بھرتیوں کے عمل کے دوران ہونے والی مبینہ بےضابطگیوں کے حوالے سے شدید نعرہ بازی کی، مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ادریس،قیصر خان اور دیگر مقررین نے کہا کہ وہ پاکستان کے کرپٹ نظام کا ماتم کرنے کےلئے اکٹھے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ اگر انہیں انصاف نہ ملا تو وہ جلد اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے انہوں نے کہا کہ بھرتیوں کے دوران شفافیت اور میرٹ کی دھجیاں اڑائی گئیں اور میرٹ پر آنے والے غریب امیدواروں کا حق مارا گیا.مظاہرین نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے مطالبہ کیا کہ میرٹ کے خلاف ہونے والی بھرتیاں منسوخ کی جائیں ۔جبکہ تحصیل بار جتوئی کے جنرل سیکریٹری راو فہیم اختر ایڈووکیٹ کے جاری کردہ پریس ریلیز میں بھی بھرتیوں کے عمل میں میرٹ کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا گیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ مظفرگڑھ کے گریجوایٹ اور ماسٹر ڈگری ہولڈر امیدواروں کو نظرانداز کر کے دوسرے اضلاع کے کم تعلیم یافتہ امیدواروں کو بھرتی کیا گیا ہے انہوں نے بھرتی کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو نظر انداز کرنے کے خلاف 2 مارچ کو مکمل ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے
0 Comments