66 سالہ سرکوزی پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنی سنہ 2012 کی صدارتی مہم میں فراڈ کرتے ہوئے زیادہ پیسے خرچ کیے تھے۔
اس کیس کی تفتیش ایک مجسٹریٹ گلبرٹ کر رہا تھا صدر نکولس سرکوزی نے اس کیس میں تفتیش کے بارے میں معلومات دینے کے بدلے اس مجسٹریٹ گلبرٹ ایزربرٹ کو رشوت کے طور پر موناکو میں ایک بڑی نوکری دینے کی پیشکش کی جس کے الزام پر اسے فرانس کی عدالت نے سزا سنائی
ایسے ہی مجھے مرحوم جج ارشد ملک کا حلف نامہ یاد آ گیا جس میں اس نے اعترافی بیان دیتے ہوے کہا کہ
ملتان کی ایک نجی محفل کی 16 سال پرانی ویڈیو معلوم نہیں کیسے حاصل کی گئی،
ویڈیو لیک کرنے کی دھمکیاں دی جاتی رہیں اور کہا گیا تعاون کریں، سماعت کے دوران نواز شریف، ناصر بٹ اوردیگر نے دباؤ میں رکھا، نواز شریف نے بھی جاتی امرا بلا کر پیسوں کی آفر کی اور کہا تعاون کریں
جج ارشد ملک نے کہا عمرہ کرنے گیا تو وہاں حسین نواز سے ملاقات کرائی گئی،
حسین نواز نے کہا ہم سے تعاون کریں ہم آپ کو بیرون ملک سیٹ کردیں گے،
حسین نواز نے 25 اور پھر 50 کروڑ کی آفر کی، رشوت کی پیشکش قبول نہیں کی تو جان سے مارنے اور خطرناک نتائج کی دھمکیاں دی اور کہا سعودی عرب سے پاکستان جانے کی ضرورت نہیں ،آپ یہاں یاکسی اور ملک جاناچاہتے ہیں تو دستاویزات بنا دیں گے
ارشد ملک نے بتایا نواز شریف کیس میں فیصلہ سنانے کے بعد کہا گیا کہ نواز شریف کیلئے ویڈیو ریکارڈ کرائیں، ویڈیو میں کہیں کہ میں نے غلط فیصلہ کیا، یہ بھی کہیں کہ فیصلہ کسی دباؤ میں کیا گیا ہے تاکہ نواز شریف کو تسلی ہو۔
یہ تو دو ملکوں کے الگ الگ کیسز تھے
پاکستان والے کیس کا شیر تو لندن کی پرتعیش فضاؤں میں چین کی بانسری بجا رہا ہے جج ارشد ملک قبر میں جا سویا
ویسے فرانس میں اس سے جمہوریت کو خطرہ کیونکر لاحق نا ہوا آخر صدر سرکوزی ان کا صدر رہا ہے
کیا وہاں کی عوام سوئی ہوئی ہے جس نے اسے انتقامی کارروائی قرار نہیں دیا؟؟؟
کیا اب سرکوزی کے پٹواری بھی شیر اک واری فیر کا نعرہ لگائیں گے؟؟؟
0 Comments