کمالیہ کے نواحی گاوں شفیع والا میں ایک 12سالہ معصوم عدنان کی درخت کے ساتھ لٹکتی ہوئی لاش پائی گئی جس کے بارےمیں کہا جارہا ہے کہ بچے نے خود کشی کی ہے لیکن حیرانگی اس بات کی ہے کہ یہ کیسا پھندا بچے کے گلے میں ڈالا گیا ہے کہ بچے کے پاؤں زمین پر لگے ہوئے ہیں اور بچہ مرگیا جبکہ بچے کا والد آنکھوں سے نابینا اور وہ کہتا کہ کوئی قانونی کاروائی نہیں کرنی اور مقتول بچے کے ماموں نے تو بے حسی کی حد ہی پار کردی یہ بیان دیکر کہ میرے بھانجے کو اگر کسی نے قتل بھی کیا ہے تو بھی ہم کوئی کاروائی نہیں کریں گے.میری ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ ہے کہ اس قتل یاخودکشی کا نوٹس لیں اور معصوم بچے کی خودکشی یا قتل کا معمہ ہنگامی بنیادوں پر حل کریں
0 Comments