تحریر - علامہ افتخار
* وہ اپنی قسمت پر کیوں نہ ہو نازاں
جسکو آپ سے دوست میسر آئیں "
یار لوگ کہتے ہیں کہ جب سے آپ سر قاسم علی شاہ صاحب سے ملے ہیں آپ کی " اڑان اونچی " ہوگئی ہے ۔ جی ہاں آپ درست فرمارہے ہیں واقعی میری "اڑان اونچی " ہوگئی ہے اور اونچی اڑان ۔۔۔ کیوں نہ ہو؟ مجھے مرشد نے اس بار جو تحفہ دیا ہے وہ ہے ہی
" اونچی اڑان " ❤
خوبیء قسمت کہ محترم محمد اقبال صاحب خطیر جو خود ایک دانشور رائیٹر شا عر اور محقق ہیں بھی قاسم علی شاہ صاحب کے مداح نکلے جو شاہ جی کے آن لائن لیکچرز بڑی باقائدگی سے سنتے دیکھتے ہیں ۔ نے فرمایا کہ میں قاسم علی شاہ صاحب کا دل سے احترام کرتا ہوں اصل میں یہ بڑے لوگ ہیں جن سے زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد طلباء و طالبات فائدہ حاصل کررہے ہیں ۔ جو دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں بانٹتے ہیں اصل میں یہ لوگ بڑے قابل قدر و تحسین ہیں ۔ اسلیے آپ ان کی آسانی کے مطابق وقت طے کریں پھر اکٹھے ملاقات کو جائیں گے ۔ قاسم علی شاہ صاحب کو اللّه پاک سلامت رکھے باوجود ہزار مصروفیات نہایت شفیق بہت ملنسار اور درویش منش ، محبت سے لبریز شخصیت ہیں ورنہ آج کے دور میں دوستو " نہ ملنے کے ہزار بہانے ہوتے ہیں "
پیارے مرشد نے جلد ہی ملاقات کا وقت عنایت کردیا ۔ اور یوں ہم ایک روز شاہ جی کے آستانہ پہنچ گۓ ۔ منتظمین قاسم علی شاہ فاونڈیشن کے صد آفرین ہےکہ سیکورٹی آفیسرز سے لے کر آپ کی بہترین مینجمینٹ ٹیم کے خوبصورت نوجواں دیدہ و دل فرش راہ کیے چہروں پر مسکراہٹیں سجاۓ منتظر ہوتے ہیں ۔ اور کیوں نہ ہوں جب "صاحب خانہ" اپنے مہمان کو اتنا احترام دیتے ہیں تو پھر واقعی محسوس ہوتا ہے کہ* مرشد خانے* سکون ملتا ہے ۔ محترم محمد اقبال صاحب اور راقم کا دل باغ باغ ہوگیا پیارے قاسم علی شاہ صاحب نے اتنا پرتپاک استقبال کیا کہ اپنی قسمت پر رشک آتا ہے کہ میں تو ناچیز بندہ ہوں اور اتنی محبت ۔ ❤❤🙏🏼🌹
مجھے یقین ہے کہ ایسا حسن سلوک صرف میرے ساتھ ہی نہیں بلکہ شاہ جی کے پاس جانے والے تمام "سائلین " کے ساتھ ہی ہوتا ہے ۔ پھر یہاں آنے والے تمام مہمانوں کی خاطر مدارات بھی ماشاءالله ہمیشہ " شاہی انداز " سے کی جاتی ہے ۔ محترم محمد اقبال صاحب نے شاہ جی سے ملتے ہی عقیدت سے ایک تاریخی جملہ کہا کہ " قاسم شاہ صاحب آپ ایک عظیم مدرس و مبلغ ہیں آپ علم کی روشنی لاکھوں افراد میں بانٹ رہے ہیں بہت بڑا کار خیر فرما رہے ہیں ۔ پیسے والا آدمی بڑا نہیں ہوتا بلکہ آسانیاں اور محبتیں بانٹنے والا انسان بڑا ہوتا ہے اس لیے میں یہ برملا کہوں گا کہ آپ کو دیکھ کر " میرا حج ہوگیا " علامہ افتخار کی رفاقت میں آپ کے پاس آکر بہت اچھا لگا ہے ۔ جس پر محترم قاسم علی شاہ صاحب نے راقم بارے نگاہ لطف و کرم کرتے میری طرف اشارہ کرکے ایک تاریخی جملہ فرمایا کہ اس نرالے شخص "علامہ افتخار " کے انداز و اطوار ، والہانہ محبت و عقیدت سے تو مجھے عشق ہوگیا ہے "
چاۓ کافی کے ساتھ ساتھ کافی دیر تک سیر حاصل گفتگو ہوتی رہی ۔ محترم محمد اقبال صاحب نے امریکہ میں مقیم اپنے جگری دوست " اشرف گل " صاحب کی دو کتب آپ بیتی و شعری مجمو ے شاہ جی کی خدمت میں پیش کیے ۔ پہلی ملاقات میں راقم کو سر محترم نے اپنی نہایت آعلیٰ کتاب " ابر مسلسل " کے نادر تحفے کے ساتھ ساتھ " بہت ہی آعلیٰ پرفیوم " کے تحفے سے نوازا تھا اس بار سیٹ سے اٹھ کر الما ری کی طرف بڑھے مسکرا تے ہوے ایک خوبصورت دیدہ زیب پیکنگ میں قیمتی "مفلر" میری طرف بڑھاتے فرمانے لگے کہ آپ اسے " پچھلی بار " یہیں چھوڑ گئے تھے ۔۔۔۔ !!!
پیارے دوستو ایسی ہوتی ہیں آعلیٰ ظرف ہستیاں ۔ رب کریم سے قاسم علی شاہ صاحب کی سرفرازیوں کامیابیوں اور ترقیوں کے لئے ہر پل دعا گو ۔
علامہ افتخار
0 Comments